انوکھی شادی : مولوی نے پڑھایا نکاح تو پنڈت نے دلائے سات پھیرے ، ہرطرف ہورہی بحث ، جانئے کیوں
بچپن کا پیار اتنا گہرا تھا کہ مذہب کی دیوار آڑے نہیں آئی ۔ محبت کی شادی میں گھر والوں نے دل کھول کر دونوں کو دعائیں دیں کہ ان کی ازدواجی زندگی خوشحال رہے اور دونوں میں مجبت قائم رہے ۔
مہاراشٹر کے کولہا پور میں ہندو لڑکے نے مسلم لڑکی کے ساتھ محبت کی شادی کی ۔ یہ شادی گھر والوں کی مرضی سے ہوئی ۔ دونوں فریقوں نے اپنے رسم و رواج کے مطابق شادی کی تقریب کی ۔ بچپن کا پیار اتنا گہرا تھا کہ مذہب کی دیوار آڑے نہیں آئی ۔ محبت کی شادی میں گھر والوں نے دل کھول کر دونوں کو دعائیں دیں کہ ان کی ازدواجی زندگی خوشحال رہے اور دونوں میں مجبت قائم رہے ۔ ( تصویر اور رپورٹ : وسیم انصاری)
دلچسپ بات یہ ہے کہ کولہا پور میں رہنے والے اس جوڑے نے ایک دوسرے کے ساتھ سات پھیرے بھی لئے اور نکاح بھی کیا ۔
کولہا پور کے ستیہ جیت سنجے یادو اور مارشا ندیم مجاور بچپن سے ایک دوسرے کے اچھے دوست رہے ہیں ۔ دوستی کب پیار میں بدل گئی انہیں پتہ بھی نہیں چلا ۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں نے اپنے گھر والوں سے اپنا یہ پیار نہیں چھپایا ۔ یہی نہیں ان کے گھر والوں نے کبھی ان کے پیار پر اعتراض بھی نہیں کیا ۔
گھر والوں کی مرضی اور ان کی دعاوں سے منڈپ میں دونوں مذاہب کے رسم و رواج کے ساتھ شادی ہوئی ۔ لڑکا غیر مسلم اور لڑکی مسلم دونوں کی شادی کولہا پور میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔
ہندو ۔ مسلم شادی میں کوئی مسئلہ اس لئے پیدا نہیں ہوا ، کیونکہ دونوں کا خاندان تعلیم یافتہ یے ۔ ان لوگوں میں مذہبی بھید بھاؤ نہیں ہے اور یہ بھید بھاؤ نہیں مانتے ہیں ۔
کولہا پور کے رنکالا میں رہنے والے ستیہ جیت سول انجینئر ہیں اور مارشا آرکیٹیک ہیں ۔ دونوں کی دوستی بارہ سال پرانی ہے ۔ ان دونوں نے یہاں ایک مقامی ہوٹل میں ایک عالم دین اورایک پنڈت کی موجودگی میں شادی کی ۔
مولانا نے شریعت کے مطابق نکاح پڑھایا اور پنڈت جی نے اپنے رسم ورواج سے شادی کرائی اور اس طرح شادی بحسن خوبی اختتام پذیر ہوئی ۔
بتایاجاتا ہے کہ مارشا کے دادا 1968 میں کارپوریٹررہ چکےتھے ۔ انہوں نے کوڑھ کے مریضوں کے لئے شینڈا پارک میں سہولت دلانے کے لئے چپکو آندولن کیا تھا ۔ مارشا کے والد ندیم مجاور نے کہا کہ ہم انسانیت کو ہی سب سے بڑا مذہب مانتے ہیں ۔




