مختار انصاری کے دادا سے لے کر نانا تک نے سنبھالے ہیں اہم عہدے، سیاست میں دبدبہ
رکن اسمبلی مختار انصاری پنجاب سے واپس باندہ جیل لائے جانے کے عدالت کے حکم کے بعد سے سرخیوں میں ہیں۔ پنجاب حکومت پر الزام لگ رہا ہے کہ وہ انہیں ریلیزکرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کی ہے۔ ویسے جہاں تک مختار انصاری کی فیملی کا سوال ہے تو ان کا خاندان نہ صرف نامی اور رسوخ والا رہا ہے بلکہ سیاست سے بھی زبردست طریقے سے جڑا رہا ہے۔
مافیا ڈان مختار انصاری سرخیوں میں ہیں۔ وہ صرف خود سیاست میں نہیں ہیں بلکہ ان کی زبردست سیاسی رسوخ ہے۔ وہ ایسی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں لوگ ایک سے ایک عہدوں پر رہے ہیں۔ ان کی فیملی کے لوگوں اور خاندان کے لوگوں کی مشرقی اترپردیش میں اپنا نام ہے۔ سیاست میں ان کی فیملی آج سے نہیں بلکہ 100 سالوں سے وابستہ ہے۔ فائل فوٹو
مختار انصاری کے دادا ڈاکٹر مختار احمد انصاری جنگ آزادی تحریک کے دوران 27-1926 میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدر رہے۔ وہ گاندھی جی کے بے حد قریبی مانے جاتے تھے۔ دہلی میں ان کے نام پر ایک سڑک بھی ہے۔ آزادی کی لڑائی میں اس خاندان کا اہم کردار رہا ہے۔ مختار انصاری کے والد خود ایک بڑے کمیونسٹ لیڈر تھے۔
مختار انصاری کے دادا کی طرح نانا بھی نامور شخصیات میں سے ایک تھے۔ مہاویر چکر فاتح بریگیڈیئر عثمان، مختار انصاری کے نانا تھے۔ جنہوں نے 1947 کی جنگ میں نہ صرف ہندوستانی فوج کی طرف سے نوشیرہ کی لڑائی لڑی بلکہ ہندوستان کو جیت بھی دلائی۔ اس جنگ میں وہ ہندوستان کے لئے شہید ہوگئے تھے۔
سابق نائب صدر حامد انصاری بھی مختارانصاری کے چچا لگتے ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ کانگریس اور کئی دیگر سیاسی جماعتوں میں ان کا اب بھی بہترین رتبہ ہے۔ کچھ لوگ پنجاب میں جیل میں ان کے رکھے جانے کو انہی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
کام کی وجہ سے بھی علاقے کے غریبوں میں مختار انصاری کی فیملی کا احترام ہے۔ شاید کم لوگوں کو ہی معلوم ہو کہ مئو میں انصاری فیملی کی اس عزت کی ایک وجہ اس خاندان کی قابل فخر تاریخ۔ خاندانی رسوخ کی جو تاریخ اس گھرانے کی ہے ویسی ہی شاید ہی پروانچل کے کسی خاندان کی ہو۔
کام کی وجہ سے بھی علاقے کے غریب بزرگوں میں مختار انصاری کی فیملی کا احترام ہے۔ مئو میں اب بھی ان کے خاندان اور ان کا زبردست رسوخ ہے۔ وہ ضرورتمندوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔ فائل فوٹو
مختار انصاری پانچ بار بہوجن سماج پارٹی کی طرف سے رکن اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں۔ حالانکہ سیاست میں ان کی انٹری بنارس ہندو یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے عہدیدار کے طور پر سرگرم ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے اور ان کے بھائی افضال انصاری نے 2007 میں بی ایس پی جوائن کی۔ مایاوتی نے تب انہیں غریبوں کا مسیحا اور رابن ہڈ تک کہا تھا۔ جب مایاوتی نے 2010 اس کو پارٹی سے نکال دیا تو انہوں نے قومی ایکتا دل کے نام سے اپنی نئی پارٹی بنائی۔ حالانکہ 2017 میں پھر ان کی بی ایس پی میں واپسی ہوگئی۔ فائل فوٹو
مختار انصاری 2009 میں وارانسی سے مرلی منوہر جوشی کے خلاف بی ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے، انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن زبردست ووٹ ملے۔ انہیں محض 17,211 ووٹوں سے شکست ملی۔ 2010 میں جب بی ایس پی نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تو انہوں نے قومی ایکتا دل نام سے پارٹی بنائی۔ یہ پارٹی انہوں نے اپنے بھائیوں، افضال انصاری اور صبغت اللہ انصاری کے ساتھ مل کر بنائی۔ مختار انصاری نے سال 2014 میں بنارس سے مودی کے خلاف بھی الیکشن لڑا، لیکن یہاں بھی انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔




