سابق اٹارنی جنرل سولی سوراب جی کا 91 سال کی عمر میں انتقال، کوروناوائرس سے ہار گئے جنگ
سابق اٹارنی جنرل اور ماہر قانون سولی سوراب جی (Former Attorney General Soli Sorabjee) کا کورونا وائرس کے سبب انتقال ہو گیا ہے۔ سولی سوراب جی کو کووڈ۔19 سے متاثر ہونے کے بعد جنوبی دہلی کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
- News18 Urdu
- Last Updated: Apr 30, 2021 11:44 AM IST
نہیں رہے سولی سوراب جی
خاندانی ذرائع نے بتایا کہ سابق اٹارنی جنرل اور ماہر قانون سولی سوراب جی (Former Attorney General Soli Sorabjee) جمعہ کی صبح کووڈ۔19 میں متاثر ہونے کے بعد چل بسے۔ ۔ 91 سالہ معروف ماہر قانون سولی سوراب جی نے 1989-90 کے دوران اور پھر 1998-2004 تک ہندوستان کے لئے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران انھوں نے ملک و قوم کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔
سولی سوراب جی کو کووڈ۔19 سے متاثر ہونے کے بعد جنوبی دہلی کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
Shri Soli Sorabjee was an outstanding lawyer and intellectual. Through law, he was at the forefront of helping the poor and downtrodden. He will be remembered for his noteworthy tenures India’s Attorney General. Saddened by his demise. Condolences to his family and admirers.
— Narendra Modi (@narendramodi) April 30, 2021
سولی جہانگیر سوراب جی سن 1930 میں ممبئی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی قانونی پریکٹس کا آغاز بمبئی ہائی کورٹ سے 1953 میں کیا تھا۔In passing of Soli Sorabji, we lost an icon of India's legal system. He was among select few who deeply influenced evolution of constitutional law & justice system. Awarded with Padma Vibhushan, he was among most eminent jurists. Condolences to his family & associates: President pic.twitter.com/JHNaL8W0oW
— ANI (@ANI) April 30, 2021
سنہ 1971 میں انہیں سپریم کورٹ نے سینئر وکیل نامزد کیا۔ سورابجی پہلے 1989 میں اور پھر 1998 سے 2004 تک اٹارنی جنرل نے عظیم عہدے پر فائز رہے۔









